بلیک واٹر اور دیگر تنظیموں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ قبائلیوں کو دھوکہ اور ترغیب دیکر پاکستان میں تخریب کاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں۔ اس کا آغاز ہوگیا ہے اور خدشہ ہے کہ دہشت گردوں کا اگلا ہدف ایٹمی تنصیبات ہوسکتی ہیں“۔ القاعدہ کون ہے، کیا ہے اور کہاں ہے؟ ان سوالات پر ”تہذیبوں کا تصادم“ شروع ہوچکا ہے اور جنرلوں کی بھی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس سے پہلے القاعدہ کے بارے میں تازہ خبر یہ آچکی ہے کہ اس کی قیادت کوئٹہ میں طالبان قیادت کے ہمراہ روپوش ہے ادھر جنرل اسلم بیگ کے بیان کی روشنی میں القاعدہ کا ”کھرا“ تلاش کرنے کی کوشش کریں تو نشانات امریکی ریاست ٹیکساس تک چلے جائیں گے اور ان کے تربیتی کیمپوں کا پتہ لگانے نکلیں تو آپ کو ریاست کیرولینا میں بلیک واٹر کے کیمپ مل جائیں گے جہاں سے ہزاروں دہشت گرد تیار کرکے دنیا بھر میں بھیجے جاتے ہیں اور ان دہشت گردوں کو امریکی سفارت خانوں کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔80 اور 90 کی دہائی میں امریکہ کے بک اسٹورز پر جہاد کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا ایک الگ سیکشن ہوتا تھا۔ 80 کی دہائی کے آخر میں نیویارک کے ایک بڑے اسٹور پر ایک کتاب پر میری نظر پڑی۔ اس کا ٹائٹل JEHAD Vs MC WORLD (جہاد بمقابلہ میک ورلڈ) اس کے ٹائٹل پر ایک کولا مشروب کا کین تھا اور نیچے حجاب میں چھپا ایک مسلمان لڑکی کا چہرہ۔ اسی زمانے میں ایک اور کتاب کے امریکہ میں چرچے تھے۔ یہ کتاب تھی THE POWER THAT BE ۔ اس کتاب میں یہ کہا گیا تھا کہ مستقبل کی بہت بڑی طاقت ”میڈیا“ ہوگا۔ محترم خالد اسحاق صاحبہ کے گھر کی ہفتہ وار نشستوں میں، میں نے اول اول ذکر کتاب کا تعارف کرایا تو اس محفل میں باقاعدگی سے آنے والے محمد سعید نے مجھ سے وہ کتاب لی اور ثانی الذکر کتاب مجھے پڑھنے کو دی۔ جہاد والی کتاب کے بارے میں، میں کہتا تھا کہ جنرل تنویر نے مقامی حکومتوں کا آئیڈیا اسی کتاب سے لے لیا تھا اور سعید صاحب کی دی ہوئی کتاب نے 11ستمبر 2001ء کے بعد بتایا کہ واقعی میڈیا بہت بڑی پاور ہے اور امریکہ اسی پاور کے ذریعے دنیا کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ شعور کی ندی بہتی ہے تو اس کی راہ میں کئی مقامات آتے ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے کے بعد امریکی صدر بش کی تقریر میں ”کروسیڈ“ کا لفظ اتفاقاً آگیا تھا یا وہ اپنے تحت الشعور پر قابو نہ پا سکے تھے پھر ”کروسیڈ“ کی اصطلاح کے ساتھ کروٹیڈ کے ہیرو رچرڈ شیرول کا خیال آتا ہے۔ پھر یہ خیال آتا ہے کہ صدر بش نے اس علاقے کیلئے انچارج رچرڈ باؤچر کو کیوں بنایا؟ پھر اس کے بعد بش سے چارج لینے والے صدر اوبامہ نے بلقانائزیشن کے ماہر رچرڈ ہالبروک کو پاکستان کا انچارج کیوں مقرر کیا؟ اور کیری لوگر بل پیش کرنے والے ایک سینٹر رچرڈ لوگر ہیں۔ شعور کی ندی امریکی صدر رچرڈ نکسن کا عہد بھی یاد دلاتی ہے جس کے عہد میں پاکستان دولخت ہوا تھا۔پاکستان میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہورہی ہیں۔ ان کا نشانہ غریب عوام، معصوم بچے اور عورتیں اور پاکستانی معیشت کے بعد پاکستان کے سیکورٹی ادارے بھی بن رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام، پاکستان کی معیشت، پاکستان کی مسجدوں اور سیکورٹی اداروں کا دشمن کون ہے؟ یہ کارروائیاں جو لوگ کرتے ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو خریدا جاتا ہے، ورغلایا جاتا ہے، لالچ دیا جاتا ہے… خیال آتا ہے کہ پاکستان کے خلاف یہ سارے عمل کون کراتا ہے؟ کیا القاعدہ…؟ ان ”طالبان“ کے پیچھے کون ہے؟ کون سی القاعدہ ان کے پیچھے ہے جو ان کو جدید ترین اسلحہ اور قیمتی دھماکہ خیز جیکٹ دیتی ہیں۔ کون ان لوگوں کو جنت کے خواب دکھاتا ہے؟امریکی القاعدہ کا سوچئے تو وہ ہمارے بھولے بھالے صدر کو ایک رات ٹیلیفون پر ایک سہانا خواب دکھا کر ورغلانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ ہمارے اس صدر نے کہا سرحد، کیا بلوچستان، کیا قبائلی علاقے ہر جگہ دہشت آمیز کارروائیاں شروع کردیں۔ اس کو جو خواب دکھایا گیا تھا اس میں بقول اس کے کشمیر کے مسئلے کا حل تھا ایٹمی اثاثے محفوظ ہوں گے لیکن ایک جنت اور بھی دکھائی جاتی ہے جس میں درختوں پر ڈالر لگتے ہیں جہاں قیمتی مشروبات ہوتے ہیں اور جہاں نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں والی گوریاں ہوتی ہیں۔پاکستانی عوام پر ڈرون حملوں کا سوچئے تو خیال آتا ہے کہ اس صدی کا پہلا ڈورن حملہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوا تھا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی بہت سی کتابوں کے مطابق یہ حملہ امریکی القاعدہ کا کارنامہ تھا۔ ان جہازوں میں نہ کوئی پائلٹ تھا۔ نہ ائیرہوسٹس ، نہ مسافر کیونکہ اب تک ان کی کوئی فہرست نہیں تھی۔ یہ طیارے ڈرون طیاروں کے انداز میں آئے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گئے۔ آج یہ ڈرون حملے پاکستان میں ہوتے ہیں کیونکہ بقول امریکی جنرل میک کین، القاعدہ کا مرکز کشش ثقل پاکستان ہے۔جنرل اسلم بیگ بھی یہی کہتے ہیں کہ القاعدہ پاکستان میں سرگرم عمل ہے لیکن کون سی القاعدہ؟ کیونکہ ہر ایک کی اپنی اپنی القاعدہ ہے۔ پاکستان میں امریکہ کی انٹری سفید پاؤڈر سے شروع ہوئی تھی اس کو سوکھے دودھ کا نام دیا گیا تھا۔ اس پاؤڈر میں پانی ملایا جاتا تھا تو یہ سفید ہوجاتا تھا پھر سرخ گندم آئی پھر براؤں رنگ کے کولا آئے پھر نیلی جینز آئی پھر برگر آئے اور آخر میں کالا پانی آیا ہے۔ امریکہ جس کو القاعدہ کہتا ہے وہ ہمارا القاعدہ نہیں ہے۔ ہمارا القاعدہ وہ ہے جو ہمارے عوام، ہماری معیشت، ہماری مسجدوں، ہمارے قرآن، ہماری فوج اور ہماری ایٹمی طاقت کی دشمن ہے۔ اس القاعدہ کے حملے بڑھتے جارہے ہیں اور پاکستان کہتا ہے روکو بھئی روکو۔ اس القاعدہ کو روکو!!
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 170206
ایک ہی دن کے اخبار میں 2جرنیلوں کے بیان تھے۔ امریکی (ریٹائرڈ) جنرل لیک کین نے کہا ”القاعدہ کی کشش ثقل پاکستان ہے اور القاعدہ کی پاکستان میں موجودگی پاکستان کیلئے سنجیدہ خطرہ ہے“۔ پاکستانی (ریٹائرڈ) جنرل اسلم بیگ نے کہا ”جی ایچ کیو اور دیگر حساس اداروں پر حملے امریکہ کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کئے جارہے ہیں۔